6 اکتوبر 2011 - 20:30

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمتیار نے کہا ہے کہ پاکستان تعاون اور مدد نہ کرتا تو آج امریکہ افغانستان میں نہ ہوتا، امریکا کی افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے مدد کی جا سکتی ہے۔

ابنا: حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمتیار نے کہا ہے کہ پاکستان تعاون اور مدد نہ کرتا تو آج امریکہ افغانستان میں نہ ہوتا، امریکا کی افغانستان سے باعزت واپسی کے لیے مدد کی جا سکتی ہے۔ گلبدین حکمتیار نے یہ بات افغانستان پر امریکی حملے کے دس سال پورا ہونے پر جاری بیان میں کی۔

گلبدین حکمتیار نے کہا کہ افغانستان میں جاری جنگ سے امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ملنے والا تا ہم ان کا دعوی تھا کہ اس جنگ کا فائدہ صرف روس کو ہو گا۔ 

حکمتیار نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون نہ کرتا تو آج امریکہ افغانستان میں نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موجودہ صورت حال میں دھکیلنے والا بھی امریکہ ہی ہے اور آج پاکستان پر امریکی مخالفین کی مدد کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

حکمتیار نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن نہ کرنے پر پاکستان کو حملوں کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کے ایماء پر سوات، باجوڑ، مہمند، خیبر اور کرم میں کارروائیاں کیں۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ افغانستان سے واپسی کے لیے امریکہ سے تعاون کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر امریکا جنگ کو دوام دینا چاہتا ہے تو افغان قوم کے حوصلہ بلند اور ارادے پختہ ہیں۔  ...........

/110 - 169